ابنا: بحرین کے قومی مذاکرات میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتیں اس ملک کو گزشتہ ڈھائی برسوں سے درپیش بحران سے باہر نکالنا چاہتی ہیں۔ واضح رہے کہ عوام گزشتہ ڈھائي برسوں سے آل خلیفہ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں جس کی وجہ سے اس ملک کو بحران کا سامنا ہے۔بحرین میں قومی مذاکرات کے نئے دور کے آغاز کے موقع پر حکومت مخالف رہنماؤں نے تاکید کی ہے کہ حکومت کو ملک میں قیام امن کے لۓ ضروری تدابیر اختیار کرنا چاہئيں۔ اپوزیشن کے رہنماؤں نے یہ بھی تاکید کی ہے کہ آل خلیفہ کی شاہی حکومت ملک میں حالیہ مہینوں میں مظاہروں کے دوران گرفتار کۓ جانے والے سیاسی قیدیوں کو جلد از جلد آزاد کرے اور بحران کو طاقت سے حل کرنے کا آپشن ترک کردے۔یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب گزشتہ جولائی کے مہینے میں حکومت اور مخالف جماعتوں کے درمیان منامہ میں ہونے والے مذاکرات ناکام ہو گۓ تھے کیونکہ اپوزیشن کے رہنماؤں نے دو ہفتوں کے مذاکرات کے بعد ان مذاکرات کا بائیکاٹ کرتے ہوئے کہا تھاکہ حکومت نے قومی مذاکرات میں مخالفین کے لۓ بقدر کافی حصہ مدنظر نہیں رکھا ہے۔بحرین کے قومی مذاکرات میں مخالف جماعتوں کی قیادت الوفاق نامی اہم شیعہ اتحاد کے پاس ہے۔ حکومت مخالف ان جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ ملک میں شہری حقوق کا خیال رکھا جائے اور ایک آئينی شاہی نظام قائم کیا جائے۔ دوسری جانب بعض دوسری جماعتیں قومی مذاکرات کو بحرین کی حکومت کی پروپیگنڈہ مہم جانتی ہیں۔ ان کا کہنا ہےکہ حکومت قومی مذاکرات کے سلسلے میں سنجیدہ نہیں ہے اور صرف بے مقصد مذاکرات کے ذریعے دنیا والوں پر یہ ظاہر کرنےکے درپے ہے کہ وہ مخالفین کے ساتھ مذاکرات کررہی ہے۔ ان جماعتوں کا کہنا ہے کہ جب تک بحرین کے مختلف علاقوں میں مظاہرین پر تشدد کیا جاتا رہے گا تب تک حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنےکے کوئي معنی نہیں ہیں۔بحرین میں حکومت کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اس ملک کے عوام کی اکثریت شیعہ مسلمانوں پر مشتمل ہے لیکن دو سو برسوں سے آل خلیفہ خاندان اس ملک پر قابض ہے جو کہ سنی مسلک سے تعلق رکھتا ہے اور اس خاندان نے انتظامیہ ، عدلیہ اور مقننہ سمیت حکومت کے تمام ارکان پر اپنا تسلط جما رکھا ہے۔ اسی وجہ سے سنہ دو ہزار گیارہ سے بحرین کے سیاسی نظام کے خلاف عوامی اعتراضات میں شدت پیدا ہوگئي ہے۔بحرین کے عوام سنہ دو ہزار گیارہ سے پرامن مظاہرے کر کے آزادی اور عوامی حکومت کی برقراری کا جائز مطالبہ کررہے ہیں لیکن ان کو آل خلیفہ کی جانب سے تشدد کا سامنا ہے ۔ جب سے آل خلیفہ کی شاہی حکومت کے خلاف عوامی تحریک کا آغاز ہوا ہے اس وقت سے اب تک آل خلیفہ اور خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ممالک کے فوجیوں کی مشترکہ کارروائيوں میں بحرین کے کم از کم اسّی شہری شہید اور سیکڑوں زخمی ہوچکے ہیں جبکہ ہزاروں افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے یا ان کی ملازمتیں ختم کردی گئي ہیں۔
.......
/169